اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) اایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو تجارت، جدید ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، ہنرمندی کے فروغ اور عوامی و ثقافتی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
صدر زرداری نے جمعے کو جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق زرداری نے اپنے جرمن ہم منصب کی دعوت اور اپنے وفد کے لیے گرم جوش میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مسلسل رابطوں اور تعمیری مکالمے کے ذریعے موجودہ تعلقات کو زیادہ مضبوط، جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کریں۔
زرداری کے مطابق پاکستان روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر سائنس، صحت، تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت اور ماحولیاتی بہتری میں جرمنی کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے حکومتوں، کاروباری اداروں اور ماہرین کی سطح پر رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ملاقات میں افغانستان سے متعلق چیلنجز بھی زیر بحث آئے۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، تاہم وہ افغان سرزمین کو پاکستانی شہریوں پر حملوں اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
جرمن صدر کی دلچسپی کے جواب میں زرداری نے مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور یہ خطے میں تنازعات کے مقابلے میں سکیورٹی کا متبادل فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
صدر شٹائن مائر نے جرمنی واپس بھیجے جانے والے 500 افغان شہریوں کی تصدیق کے عمل میں پاکستان کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران لاکھوں افغانوں کو انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے پر بھی پاکستان کی تعریف کی۔
صدر زرداری نے خواتین کو بااختیار بنانے، سماجی تحفظ اور انسانی ترقی کے شعبوں میں جرمنی کی معاونت کو قابل قدر قرار دیا۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے تنازع میں پاکستان کے مخلصانہ ثالثی کردار کو تسلیم کرنے پر جرمن قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے لیے مسلسل مذاکرات اور تعمیری سفارت کاری کو ضروری سمجھتا ہے۔
