اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخیرے اور ترسیل کا نظام بہتر بنانے کے لیے 4.4 ارب ڈالر مالیت کے امریکی حمایت یافتہ ایل این جی منصوبے کی تیاری جاری ہے، جس کے تحت پورٹ قاسم پر درآمدی گیس ذخیرہ کرنے کا ٹرمینل اور ملک بھر میں ترسیل کے لیے تقریباً 1,100 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جائے گی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق امریکی کنسورشیم گلوبل ویسٹ انرجی پارٹنرز (جی وی ای پی) اور خانجی ہولڈنگز اس منصوبے میں شامل ہیں، جبکہ لکسمبرگ میں قائم امریکی مالیاتی ادارے جنرل میڈیٹیرینین ہولڈنگ بھی اس کا اسٹریٹجک سرمایہ کار ہے۔
منصوبے کو ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے اور اس کے لیے پورٹ قاسم اتھارٹی سے رضامندی حاصل کی جا چکی ہے۔ کنسورشیم نے اوگرا سے ابتدائی لائسنس کے لیے بھی درخواست دے رکھی ہے۔
منصوبے کے پہلے مرحلے پر تقریباً 1.7 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جس میں ایل این جی ٹرمینل اور ذخیرہ کرنے کی سہولت تعمیر کی جائے گی۔ اس میں 140,000 مکعب میٹر گنجائش کے چار ٹینک شامل ہوں گے، جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 560,000 مکعب میٹر ہوگی۔ منصوبے کے مطابق ٹرمینل سالانہ تقریباً 35 ارب مکعب فٹ گیس سنبھال سکے گا۔
دوسرے مرحلے میں 42 سے 48 انچ قطر کی تقریباً 1,100 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی، جس کی روزانہ ترسیلی صلاحیت 1.2 ارب مکعب فٹ ہوگی۔ دونوں مراحل پر مجموعی لاگت 4.4 ارب ڈالر تخمینہ کی گئی ہے۔
پاکستان اس وقت ایل این جی ذخیرہ کرنے کی بڑی سہولت سے محروم ہے اور درآمدی گیس کی ضروریات عالمی منڈی کی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے تحت درآمد، ذخیرہ، ری گیسیفکیشن اور ترسیل کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ پاکستان کو امریکی اور مشرق وسطیٰ کی ایل این جی کے لیے علاقائی مرکز بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
منصوبے کی مالیاتی ساخت میں 70 فیصد قرض اور 30 فیصد ایکویٹی شامل ہوگی۔ مقامی سرمایہ کاروں کو پہلے مرحلے میں 10 فیصد تک حصہ دینے کی تجویز ہے، جبکہ بعض عالمی سرمایہ کاری اداروں کے نام بھی ممکنہ شراکت داروں کے طور پر سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی حتمی سرمایہ کاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی ادارے یو ایس ٹی ڈی اے منصوبے کی تیاری میں معاونت کے لیے منظوری دے چکے ہیں، جبکہ امریکی ڈی ایف سی اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے مالی معاونت کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ منصوبے کے لیے حتمی لاگت تعمیراتی اور سپلائی معاہدوں کے بعد طے ہوگی۔
