اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے کلسٹر بموں سے لیس وارہیڈز کا تجربہ کیا ہے، جس کا مقصد ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں میں نصب کیے جانے والے ان ہتھیاروں کی جنگی صلاحیت اور تباہ کن اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ یہ تجربہ ہفتے کے روز کیا گیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق تجربے کے دوران کلسٹر بم وارہیڈز کی کارکردگی اور جنگی حالات میں ان کے استعمال کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔ شمالی کوریا کے حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ وارہیڈز انتہائی زیادہ تباہ کن طاقت کے ساتھ 12 سے 13 ہیکٹر رقبے کو راکھ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ عرصے میں کیے جانے والے متعدد فوجی تجربات کا حصہ ہے، جن کا مقصد فوجی یونٹس کی تربیت اور مختلف ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو جانچنا بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل پیانگ یانگ نے حملہ آور ڈرونز، نئے پریسیژن گائیڈڈ ٹارپیڈو نظام اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہائپرسونک میزائل کا بھی تجربہ کیا تھا۔
شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے کے پس منظر میں یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حال ہی میں دونوں ممالک کی انتہائی مضبوط فوجی سرحد کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں جنوبی کوریا کے تین فوجی زخمی ہوگئے تھے۔
جنوبی کوریا نے اس واقعے کے بعد شمالی کوریا پر ذمہ داری عائد کی، تاہم پیانگ یانگ نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
شمالی کوریا نے اس واقعے کے بعد اپنی سرحدی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط بنانے اور جنوبی کوریا کے خلاف لاؤڈ اسپیکر مہم دوبارہ شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
شمالی کوریا کی جانب سے نئے ہتھیاروں کے تجربات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب جزیرہ نما کوریا میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سیاسی تناؤ برقرار ہے۔
تاہم سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تازہ تجربے کے مقام، اس میں استعمال ہونے والے میزائلوں کی تعداد یا کسی ممکنہ ہدف کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
