اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پرامن اجتماع اور احتجاج آئینی حق ہے، تاہم اس حق کا استعمال دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کی صورت میں نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ احتجاجی مارچ کے خلاف دائر درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں دیا۔
درخواست گزار شہری وقاص احمد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ احتجاج کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں معمولات زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس محمد آصف اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے 14 ستمبر کو مختصر حکم سنایا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو پرامن طور پر جمع ہونے اور اختلاف رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، تاہم اس حق کے ساتھ دیگر شہریوں کی زندگی، آزادی، عزت، آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، جائیداد اور اسپتالوں، تعلیمی اداروں، عدالتوں اور دفاتر تک رسائی کے حقوق بھی آئینی تحفظ رکھتے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ کوئی سیاسی جماعت، رہنما، صوبائی حکومت یا سرکاری عہدیدار اسلام آباد یا شہر کی طرف آنے والے راستوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا دیگر عوامی مقامات پر اس انداز میں قبضہ نہیں کرسکتا جس سے شہریوں کی آمدورفت یا کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں۔
صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی گئی کہ کسی مارچ یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز، سرکاری افسران، گاڑیاں، مشینری یا دیگر سامان براہ راست یا بالواسطہ استعمال نہ کیا جائے۔
عدالت نے سرکاری ملازمین کو احتجاج میں شرکت پر مجبور، دباؤ میں لانے یا آمادہ کرنے سے بھی روک دیا اور متعلقہ حکام کو ایسی شکایات کے لیے ہیلپ لائن یا رابطے کا نظام قائم کرنے کی ہدایت کی۔
فیصلے میں فیض آباد دھرنا کیس اور 25 مئی 2022 کے پی ٹی آئی مارچ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ عدالت نے 2022 کے واقعات میں سرینگر ہائی وے کی رکاوٹ نہ بننے کی یقین دہانی پوری نہ ہونے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان، بلیو ایریا گرین بیلٹ میں آتشزدگی اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کا ذکر کیا۔
عدالت نے نومبر 2024 کے اپنے اس حکم کا بھی حوالہ دیا جس میں پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کی خلاف ورزی میں احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی سرگرمی کے نتیجے میں اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو متعلقہ شخص آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب تصور ہوگا۔ کسی سرکاری عہدیدار کی ایسی سرگرمی کو اس کے حلف کی خلاف ورزی بھی قرار دیا جائے گا۔
