اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں چین کی مبینہ مداخلت سے متعلق متعدد خفیہ دستاویزات ڈی کلاسیفائی کرتے ہوئے ایک بار پھر انتخابی شفافیت کا معاملہ اٹھا دیا، تاہم ان کے دعوے امریکی انٹیلی جنس اداروں کی سابقہ رپورٹ سے متصادم قرار دیے جا رہے ہیں، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ چین سمیت کسی بھی غیر ملکی طاقت نے 2020 کے انتخابی نتائج یا ووٹنگ کے نظام میں کوئی مؤثر مداخلت نہیں کی۔
رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے تقریباً 25 منٹ پر مشتمل اپنے پرائم ٹائم خطاب میں دعویٰ کیا کہ منظرعام پر لائی جانے والی دستاویزات امریکی انتخابی نظام میں موجود حیران کن کمزوریوں کو بے نقاب کریں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کا ڈیٹا، جس میں نام، پتے اور دیگر ذاتی معلومات شامل تھیں، غیر قانونی طور پر حاصل کیا، جبکہ امریکی انٹیلی جنس کے بعض اہلکاروں نے اس معاملے سے متعلق اہم معلومات کو عوام سے پوشیدہ رکھا۔
صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کانگریس سے مطالبہ کیا کہ ووٹر شناخت، امریکی شہریت کے ثبوت اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔ انہوں نےسیو امریکا ایکٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نظام کو مزید محفوظ بنانا وقت کی ضرورت ہے، تاہم یہ بل ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے باوجود سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔
2021 میں جاری امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی غیر ملکی ملک نے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج کے تکنیکی نظام میں مداخلت نہیں کی۔
رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف دو ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے پاس موجود ووٹر ڈیٹا خفیہ نوعیت کا نہیں تھا کیونکہ ایسی معلومات سیاسی مشاورتی ادارے اور انتخابی کمپنیاں بھی قانونی طور پر حاصل کرتی ہیں، اس لیے اس ڈیٹا کے ذریعے انتخابی نتائج تبدیل کرنا ممکن نہیں تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی انتظامیہ کو صرف چار ریاستوں میں 2 لاکھ 75 ہزار سے زائد غیر امریکی شہریوں کی ووٹر رجسٹریشن کے شواہد ملے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے کتنے افراد نے حقیقت میں ووٹ ڈالا۔
ادھر چین نے ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ نے کبھی امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت نہیں کی اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔
