Azad Kashmir's banned organization accused of foreign funding and anti-state activities

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق  حکومت کو پیش کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ، جو ابتدا میں آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف احتجاجی تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی، بعد ازاں بیرونی حمایت یافتہ ایسی مہم میں تبدیل ہوگئی جس کا مقصد پاکستان کے کشمیر مؤقف کو کمزور کرنا اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ تشکیل دینا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بعض غیر ملکی خفیہ اداروں نے برطانیہ اور یورپ میں موجود نیٹ ورکس کے ذریعے تنظیم کو مالی، تنظیمی اور ابلاغی معاونت فراہم کی۔ انٹیلی جنس جائزے میں کہا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ تنظیم نے معاشی مطالبات سے ہٹ کر آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے پر سوالات اٹھانا شروع کیے، جن میں قانون ساز اسمبلی کی 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے اور انتخابی عمل سے پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے جیسے مطالبات بھی شامل تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجر نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی نمائندگی کے لیے قائم کی گئی تھیں اور ان پر سیاسی دباؤ ڈالنے یا انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش آئینی نظام کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق مئی 2024 کے لانگ مارچ کے دوران ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور تین شہری جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ ستمبر تا اکتوبر 2025 کے دوسرے احتجاجی مرحلے میں سات شہری اور تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔ بعد ازاں وفاقی حکومت کی ثالثی سے 4 اکتوبر 2025 کو معاہدہ طے پایا، جس کی متعدد شقوں پر عملدرآمد کیا گیا یا کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد تنظیم نے پہلے سے طے شدہ نکات پر عمل کرنے کے بجائے نئے سیاسی مطالبات سامنے رکھ دیے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات، جن میں چار سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور 32 زخمی ہونے کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے تنظیم کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق بعض احتجاجی مقامات پر لاٹھیوں، پتھروں اور اسلحے کا استعمال کیا گیا جبکہ ایسے افراد کی موجودگی کے بھی شواہد ملے جن کا تعلق ماضی میں عسکری سرگرمیوں سے رہا ہے۔

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق بعض واٹس ایپ گروپس کے ذریعے عالمی میڈیا اداروں کے صحافیوں سے رابطے بڑھانے کی کوشش کی گئی جبکہ مختلف ہیش ٹیگز کے ذریعے آن لائن مہم چلائی گئی۔ رپورٹ میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کو تنظیم کے نمایاں بیرون ملک حامیوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور فلاحی اقدامات جاری رکھے، تاہم بیرونی فنڈنگ، پرتشدد احتجاج اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی بھی یقینی بنائی جائے۔