اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران ایسے اہم اقدامات پر اتفاق ہوا ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے باقاعدہ مذاکرات کی راہ ہموار کریں گے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مذاکرات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مجموعی طور پر ایسے اہم نکات طے پائے ہیں جو حتمی معاہدے سے متعلق بات چیت کے آغاز میں مددگار ثابت ہوں گے۔
بقائی کے مطابق فریقین نے ایک نئے نگرانی نظام کے قیام پر اتفاق کیا ہے جسے ڈی کنفلیکشن سیل کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام میں ثالث ممالک بھی شامل ہوں گے اور اس کا مقصد جنگ بندی کے تسلسل، کشیدگی کے خاتمے اور بالخصوص لبنان میں جنگی کارروائیوں کی نگرانی کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری امریکی اجازت ناموں، پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثوں کی رہائی کے حوالے سے بھی اہم پیغامات کا تبادلہ ہوا، جبکہ ان معاملات میں پیش رفت بھی سامنے آئی۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے محفوظ اور بلا رکاوٹ تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ قطر اور پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ مذاکرات کے اختتام پر قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جبکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات ہفتے بھر جاری رہیں گے۔
بیان کے مطابق فریقین نے لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک عملی میکنزم اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے براہ راست رابطے کا نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کے لیے خصوصی رعایتیں، بعض منجمد اثاثوں کی واپسی اور ملک کی تعمیر نو و ترقی کے منصوبوں کے آغاز کی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے۔
دوسری جانب مذاکرات کے آغاز سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ٹرمپ کے بیانات کے بعد ایرانی وفد نے مذاکراتی کمرے میں واپسی سے انکار کر دیا تھا، تاہم پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔
