یورپی ہوائی اڈے سائبر حملے کی زد میں: ہیٹرو، برسلز اور برلن ایئرپورٹس پر نظام مفلوج، پروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ہفتے کے روز ایک بڑے سائبر حملے نے یورپ کے متعدد بڑے ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشنز کو شدید متاثر کیا۔ سب سے زیادہ اثر لندن کا ہیٹرو ایئرپورٹ برداشت کر رہا ہے جو یورپ کا سب سے مصروف فضائی مرکز ہے اور روزانہ لاکھوں مسافروں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔

یہ حملہ امریکی کمپنی Collins Aerospace کے چیک اِن اور بورڈنگ سسٹمز کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آیا۔ کمپنی دنیا بھر کے ایئرپورٹس کو یہ سسٹمز فراہم کرتی ہے اور اس کی سروس متاثر ہونے سے ہزاروں مسافر مشکلات کا شکار ہو گئے۔

کولنز ایروسپیس کی پیرنٹ کمپنی RTX نے ایک ای میل بیان میں کہا:
"یہ سائبر حملہ منتخب ایئرپورٹس پر ہمارے سافٹ ویئر کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف الیکٹرانک کسٹمر چیک اِن اور بیگیج ڈراپ تک محدود ہے اور ہم دستی نظام کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری انجینئرنگ ٹیم ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔”

متاثرہ ایئرپورٹس اور اثرات

  •         ہیٹرو ایئرپورٹ (لندن): یورپ کے سب سے بڑے ایئرپورٹ پر فلائٹس میں کئی گھنٹوں کی تاخیر اور متعدد منسوخیاں۔
  •         برسلز ایئرپورٹ (بیلجیم): ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا اور ہفتے کی صبح سے پروازوں کے شیڈول بری طرح متاثر ہوئے۔
  •         برلن ایئرپورٹ (جرمنی): ویب سائٹ پر بیان دیا گیا: "چیک اِن پر لمبے انتظار اور ہجوم کی صورتحال ہے، ہم فوری حل پر کام کر رہے ہیں۔”

 

محفوظ ایئرپورٹس

  •         فرینکفرٹ ایئرپورٹ (جرمنی): متاثر نہیں ہوا۔
  •         زیورخ ایئرپورٹ (سوئٹزرلینڈ): سسٹم محفوظ رہا۔
  •         پولینڈ کے ہوائی اڈے: نائب وزیرِاعظم کرسٹوف گاوکووسکی نے یقین دہانی کرائی کہ کسی خطرے یا اثر کی اطلاع نہیں ملی۔ 

ہیٹرو اور برسلز ایئرپورٹ پر ہزاروں مسافر لمبی قطاروں میں انتظار کرتے نظر آئے۔ متعدد مسافروں نے سماجی رابطوں پر شکایات کیں کہ "چیک اِن پر صرف 2 کاؤنٹر کھلے ہیں جبکہ سیکڑوں مسافر انتظار میں کھڑے ہیں۔”

ایک مسافر نے کہا:
"ہماری فلائٹ صبح 9 بجے کی تھی، اب بتایا جا رہا ہے کہ شام 4 بجے سے پہلے روانگی ممکن نہیں۔” 

ماہرین کی رائے اور خدشات

سائبر سکیورٹی ماہر پروفیسر ہینری کولمین:
"یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ایوی ایشن انفراسٹرکچر سائبر خطرات کے لیے کتنا غیر محفوظ ہے۔ اگر یہ حملہ بڑے پیمانے پر مزید پھیل جاتا تو یورپی معیشت کو اربوں یورو کا نقصان پہنچ سکتا تھا۔”

بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کار لارا میکینزی:
"ایوی ایشن سیکٹر پر سائبر حملے کوئی نئی بات نہیں۔ 2021 میں بھی ایک بڑے حملے نے امریکی فضائی کمپنیوں کو متاثر کیا تھا۔ مگر اس بار یورپی ایئرپورٹس ایک بیک وقت ہدف بنے ہیں جو کہ خطرناک رجحان ہے۔”

یہ واقعہ یورپ کو ایک سخت وارننگ ہے کہ جدید دور میں ایوی ایشن اور ٹرانسپورٹ سسٹمز صرف فضائی حملوں سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل جنگوں سے بھی مفلوج ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے پر فوری قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف مسافروں کا اعتماد متاثر ہوگا بلکہ عالمی فضائی نیٹ ورک کی سکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان اٹھ جائے گا۔