اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں قطری ثالثوں کا وفد اتوار کو تہران پہنچ گیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ وہ تہران سے معاہدہ کرنے یا اسے مکمل طور پر شکست دینے کے درمیان فیصلہ کررہے ہیں۔
قطری وفد کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کے دوبارہ حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی نے شدید لڑائی کا مرحلہ روک دیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔
اتوار کو ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا اسی روز ایران پر حملہ کرسکتا ہے تو انہوں نے پہلے جواب دیا، کیا میں آپ کو یہ بتاؤں گا؟ تاہم بعد میں کہا کہ اس روز کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا اسے مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔
اس سے قبل جمعے کو بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایک اور چھوٹا ایپک فیوری آپریشن کرسکتا ہے۔ یہ نام 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی فوجی مہم کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز اب امریکا کے کنٹرول میں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے ایران کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ تہران میں ایک ٹیلی وژن پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ جنگ ہو یا نہ ہو، ایران کا مؤقف برقرار رہے گا۔
ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل پہلے بھی دو مرتبہ ایسا کرچکے ہیں اور نتائج دیکھ چکے ہیں؛ دوبارہ کوشش کی گئی تو نتیجہ مختلف نہیں ہوگا۔
عراقچی نے عراقی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ مذاکرات مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ نے خطے کو تبدیل کردیا ہے اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی اور اس کے انتظام کا طریقہ پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے غیر ملکی افواج کی مکمل عدم موجودگی کی جانب بڑھنا ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے موسمِ سرما میں گیس کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے ملک گیر مہم شروع کرنے اور گیس کی کھپت کم از کم 10 فیصد گھٹانے پر زور دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورسز نے عراق کے کردستان خطے میں ایرانی کرد اپوزیشن گروپ کوملہ کے ٹھکانوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔ خبر رساں ادارے مہر کے مطابق کارروائی میں بالیسان کے علاقے میں قائم گروپ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ ایران اور اس کے اتحادی منگل کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں خلل ڈالنے کے لیے حملے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج دفاعی اور جارحانہ دونوں طرح کی کارروائیوں کے لیے تیار ہے اور دشمنوں کو متنبہ کیا کہ انہیں غیر متناسب جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
