اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ طور پر دوبارہ بڑے فوجی آپریشن کی تیاریوں کے دوران سعودی عرب اور قطر میں مزید دو پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں تعینات کردی ہیں۔
اکسیوس نے دو امریکی حکام اور خطے کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایک بیٹری گزشتہ ماہ سعودی عرب میں ایک اہم تیل تنصیب کے تحفظ کیلئے بھیجی گئی، جبکہ دوسری قطر میں قدرتی گیس کی تنصیب کے دفاع کیلئے تعینات کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد دونوں اتحادی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرتے ہیں تو واشنگٹن سعودی اور قطری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے دفاع میں مدد کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں ایران کے خلاف بمباری دوبارہ شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سامنے معاہدہ کرنے کا راستہ ہے، بصورت دیگر وہ زیادہ دیر موجود نہیں رہے گا۔
اکسیوس کے مطابق سعودی اور قطری رہنماؤں نے اگست کے آغاز میں ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی بڑی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ انہیں ایرانی جوابی حملوں میں اپنی تیل اور گیس تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ خدشات ٹرمپ کے اس فیصلے میں اہم عوامل میں شامل تھے جس کے تحت واشنگٹن نے اس وقت فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ کو ترجیح دی۔
ادھر امریکا مشرق وسطیٰ میں مزید جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور فوجی بھیج رہا ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اتوار کو سان ڈیاگو سے روانہ ہوا اور نومبر کے وسط تک خطے میں پہنچنے کی توقع ہے۔
میکن آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی گروپ بھی ہزاروں میرینز کے ساتھ خطے کیلئے روانہ ہوچکا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع ہے۔ برطانوی میری ٹائم حکام کے مطابق عملہ محفوظ رہا، تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہوئیں۔
اسی دوران ایران نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پروازوں پر عائد پابندیاں ختم کرکے معمول کی فضائی آمدورفت بحال کی جائے۔
