اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق سعودی عرب نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثی رہنما نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یمن میں جنگ کے دوران سعودی کارروائیوں میں شامل ہوا تو واشنگٹن اور خطے میں اس کے مفادات کو فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق میزائل یمن کی سرحد کے قریب جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب داغے گئے تھے۔ اس شہر میں سعودی فوجی اڈہ بھی موجود ہے، جو ماضی میں حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ اس سے قبل پیر کی رات ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اتحاد نے ایک میزائل روکنے کی اطلاع دی، جبکہ حوثیوں نے ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے بعد پیش آئے، جس میں 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کی جانب سے جاری سی سی ٹی وی فوٹیج میں مسافروں کو روانگی کے لاؤنج میں دیکھا گیا، جس کے بعد اچانک دھماکے سے عمارت میں آگ اور ملبہ پھیل گیا۔ حملے کے بعد ایئرپورٹ کی سرگرمیاں پیر تک معطل رہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں امریکی شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کرنے کا بھی عندیہ دیا۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی مداخلت کی صورت میں جواب دینے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے ملازمین کو ان مقامات سے دور رہنے کا انتباہ بھی دیا، کیونکہ ان کے بقول یہ مقامات حوثیوں کے لیے جائز اہداف بن چکے ہیں۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ حالیہ واقعات نے ملک کے بنیادی ڈھانچے، اداروں اور عوام کے عزم کو آزمایا ہے اور ردعمل بھی اسی تناسب سے سنجیدہ ہونا چاہیے۔
سعودی دارالحکومت میں موبائل فونز پر فضائی خطرے کا سرکاری الرٹ بھی جاری کیا گیا، جس کے بعد ایک فٹ بال میچ کے آغاز میں تاخیر ہوئی۔ امریکی سفارت خانے نے اپنے ملازمین کے لیے سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال سے قبل اجازت لینا لازمی قرار دیا اور امریکی شہریوں کو فضائی سفر میں انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ اتحاد ایئر ویز نے ریاض کے لیے پروازیں اگلے ہفتے تک منسوخ کردیں، جبکہ گلف ایئر نے ہفتے تک ریاض کی پروازیں روکنے کا اعلان کیا۔ ڈیلٹا ایئرلائن نے اٹلانٹا سے ریاض کی براہِ راست پروازوں کا آغاز بھی مؤخر کردیا۔
یمن میں جنگ جولائی میں دوبارہ شدت اختیار کرگئی تھی۔ سعودی عرب 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے سعودی عرب پر بار بار حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
