اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر آج پیر کو ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والے اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اجلاس ایسے وقت ہورہا ہے جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت اور ایران سے منسلک حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں خطے کی تازہ صورتحال اور مکہ معاہدے کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستان کی نمائندگی اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے، جبکہ سعودی اور ترک وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
تینوں ممالک نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ریاض اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے سربراہ نے ایک روز قبل حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کیلئے ایک بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا۔
اسحاق ڈار نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایران نے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ مکہ معاہدے کی کمیٹی کے اجلاس میں زیرِ بحث آئے گا۔
تاہم پیر کو پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں اس تجویز پر کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں علاقائی صورتحال کے ساتھ دفاعی اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو حتمی شکل دینے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
مکہ معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا۔ اس موقع پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اجتماعی دفاعی وعدوں کی ساکھ اور مؤثریت بڑھانے کیلئے تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
تازہ اجلاس یمن میں ممکنہ فوجی کارروائی، حوثیوں کے ساتھ سفارتی رابطے اور تینوں ممالک کے دفاعی تعاون کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔
