Iran's clear stance is that negotiations are the solution to the conflict; should military action occur, the response will be even harsher than before.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے دوران مذاکرات کو جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو تہران پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو غیر ملکی سفیروں کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ایران فوجی محاذ آرائی نہیں چاہتا، تاہم اپنے دفاع کیلئے تیار ہے۔

عراقچی نے کہا کہ اگر مخالفین دوبارہ فوجی تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ایران کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔ ان کے مطابق نہ فوجی حل ہے اور نہ ہی نئی پابندیوں کے ذریعے کوئی حل، بلکہ انصاف اور منصفانہ بنیادوں پر مذاکرات ہی تنازع ختم کرسکتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کئی ہفتوں کی شدید امریکی اور اسرائیلی بمباری بھی جنگ کا فیصلہ کن اختتام نہیں کراسکی۔ واشنگٹن نے حالیہ ہفتوں میں فوجی کارروائیاں محدود کی ہیں، تاہم ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازع اب آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو خلیجی تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کیلئے انتہائی اہم راستہ ہے۔ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اس آبی گزرگاہ سے جہاز رانی محدود کرنے کی کوشش کی، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی کی۔

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر نے اطلاع دی کہ اسے نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا جس سے انجن روم کو نقصان پہنچا۔ عملہ محفوظ رہا اور ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔ ایران نے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے سات شرائط پیش کیں، جن میں مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی بحالی، ایرانی تیل پر پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز مسترد کردی، تاہم مزید مذاکرات یا دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار رکھا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق امریکا نے ثالثوں کے ذریعے اپنا جواب تہران تک پہنچا دیا ہے اور ایران اس کا جائزہ لے رہا ہے۔

ادھر ایرانی وزیر تیل محسن پاک نژاد نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا، جبکہ نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بوارد کو قائم مقام وزیر مقرر کیا گیا ہے