اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں 14 ستمبر کو ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل کے ایک بحری جہاز سے ٹکرانے کے نتیجے میں 8 امریکی میرینز زخمی ہوگئے تھے۔ این بی سی نیوز نے تین امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ واقعے کی تفصیلات تقریباً دو ہفتے بعد سامنے آئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق زخمی ہونے والے میرینز میں 7 اہلکار اور ایک افسر شامل تھا۔ تمام اہلکار ایک بٹالین لینڈنگ ٹیم کا حصہ تھے اور میزائل حملے کے وقت ایک ایسے بحری جہاز پر موجود تھے جو امریکی بحریہ کا جنگی جہاز نہیں تھا۔
حکام نے جہاز کی مخصوص قسم یا ملکیت ظاہر نہیں کی اور اسے صرف میری ٹائم ویسل قرار دیا۔ حملے میں میرینز کو شدید نوعیت کے زخم نہیں آئے، تاہم انہیں دھوئیں کے باعث سانس لینے میں مشکلات اور ممکنہ دماغی چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض اہلکاروں میں سر درد سمیت کنکشن جیسی علامات بھی ظاہر ہوئیں۔
امریکی حکام کے مطابق تمام 8 میرینز حملے کے کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آگئے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے واقعے پر این بی سی کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔
واقعے نے ایران جنگ میں امریکی فوجی نقصانات کے سرکاری اعداد و شمار پر جاری بحث کو بھی مزید نمایاں کردیا ہے۔ پینٹاگون کے ڈیفنس کَیژولٹی اینالیسس سسٹم کے مطابق بدھ تک ایران جنگ میں 861 امریکی فوجی زخمی ہوچکے تھے۔ 8 میرینز کو 14 ستمبر کے حملے کے تقریباً 10 روز بعد اس ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ بعض علامات واقعے کے فوراً بعد ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ فوجی نقصانات کا ریکارڈ حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ نہیں ہوتا۔
پینٹاگون کو پہلے ہی جنگ میں امریکی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے اعداد و شمار کی درجہ بندی اور رپورٹنگ کے حوالے سے جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔
