اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تعمیری انداز میں مذاکرات اور سفارتی عمل سے وابستہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن، سلامتی اور علاقائی استحکام کے حصول کے لیے فعال اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک رپورٹ میں ایران کو ابھرتی ہوئی خلائی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تہران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حملوں میں خلائی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باوجود ایران اپنے فوجی اور شہری خلائی پروگرام کو وسعت دے رہا ہے۔
امریکی خلائی ماہر ٹوڈ ہیریسن نے امریکی خلائی برتری کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایران امریکی خلائی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو پھر اسے مکمل برتری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی رپورٹ کے مطابق ایران اپنے رہنمائی اور نیویگیشن نظام کو الیکٹرانک حملوں کے خلاف زیادہ محفوظ بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی نے بھی ٹیلی فون پر علاقائی صورتحال اور امن کی سفارتی کوششوں پر بات کی۔ یہ رابطہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اور بحری سلامتی سے متعلق بڑھتی کشیدگی کے دوران ہوا۔ قطر بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکی ناکہ بندی ختم کرنے پر ہے۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک آئل ٹینکر ممنوعہ راستے سے گزرتے ہوئے بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور جہاز کو روکنا پڑا۔
پاسداران انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی الیکٹرانک وارفیئر یونٹ نے دو لوکاس طرز کے طیاروں کا کنٹرول حاصل کیا، جنہیں اس نے درانداز قرار دیا۔ ایرانی فورس نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکا پر جہازوں کو پابندیوں کی خلاف ورزی اور بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی ترغیب دینے کا الزام لگایا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن بار بار غلط اندازے لگا کر ناکامی سے دوچار ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی قیادت جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ امریکا اسرائیل فرسٹ پالیسی کے باعث خطرناک صورتحال سے دوچار ہے۔
ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بتایا کہ قطر کے ساحل سے تقریباً 50 ناٹیکل میل شمال میں ایک ٹینکر کو دو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ واقعہ بدھ کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق 4 بج کر 20 منٹ پر پیش آیا۔ ایجنسی کے مطابق عملے کی حالت، جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکا نے ایران کو مبینہ طور پر کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کے نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں دو افراد اور ایک کمپنی پر پابندیاں بھی عائد کیں۔ ان میں بیلاروس کی آرمری الائنس کے سربراہ محمد علی تولیبوف، نائجیریا کی وینگارڈ ٹیکٹیکل سپلائی لمیٹڈ اور روس میں مقیم علی شیر دومولودژانوف شامل ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جرمن وزیر خارجہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ایران پر فوجی حملے کا دفاع کر رہے ہیں اور جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں، مبینہ جنگی جرائم اور یورپی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
