اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کے نسبتاً سکون کے بعد ایک بار پھر شدید عسکری جھڑپیں شروع ہوگئیں، جن میں ایران کے مطابق امریکی حملوں میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ تہران نے امریکا کے علاقائی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوب مغربی صوبے خوزستان میں امریکی میزائل حملوں سے 7 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، تاہم مختلف حملوں کی مجموعی ہلاکتوں کے حوالے سے ایرانی رپورٹس میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔
خوزستان کے ڈپٹی گورنر برائے سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے امور ولی اللہ حیاتی کے مطابق منگل کی رات اہواز اور آغاجری کے اطراف تین مقامات پر امریکی میزائل حملے کیے گئے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے قم، بندر عباس، قشم، سیریک، چابہار اور کنارک سمیت متعدد علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دیں۔
سیریک میں ایک شادی کی تقریب پر حملے کے بارے میں ایرانی ہلال احمر نے 5 افراد کے جاں بحق اور 50 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جبکہ مہر نیوز کے مطابق جاں بحق افراد میں 4 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ ایرانی سرکاری خبر ایجنسی نے زخمیوں کی تعداد 68 بتائی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ منگل کو ایرانی پاسداران انقلاب کے خلاف تقریباً 100 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار، مواصلاتی مراکز، سمندری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت، اینٹی شپ کروز میزائل اور حملہ آور ڈرون لانچرز شامل تھے۔ امریکا نے کہا کہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی میڈیا نے بحرین میں بھی حملوں کی اطلاعات دیں۔ اردن کی مسلح افواج کے مطابق 13 بیلسٹک میزائل فضائی حدود میں داخل ہوئے، جن میں سے 10 کو روک لیا گیا جبکہ 3 دور دراز علاقوں میں گرے۔ بحرین نے بھی ایرانی ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کی اطلاع دی۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اربیل کے قریب امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں متعدد امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، تاہم امریکا اور عراق نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی پوزیشن اب کہیں بہتر ہے اور واشنگٹن کو آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے، جبکہ ایرانی معیشت تیزی سے تباہی کی طرف جارہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا کہ امریکی حملے جاری رہے تو اس کا جواب مزید شدید، وسیع اور تباہ کن ہوگا، جبکہ امریکا کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کو بھی خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے ترجمان نے شادی کی تقریب پر مبینہ حملے کو منیماب اسکول حملے سمیت سابقہ واقعات سے جوڑتے ہوئے امریکا پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا، جہاں ایرانی دعوے کے مطابق 160 افراد، جن میں زیادہ تر بچے شہید ہو گئے تھے۔
