اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے فلسطین کے معاملے پر اپنے مشترکہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارت اور خدمات پر پابندیوں کی حمایت کردی۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان بدھ کی شب ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی اور ان بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کی حمایت کی۔
برطانیہ نے یہ اقدامات فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر کیے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا تھا کہ لندن اب صرف ناانصافی کی نشاندہی نہیں کرسکتا بلکہ اسے اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف عملی اقدام بھی کرنا ہوگا۔
اسحاق ڈار اور فیدان نے آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے برطانیہ کے فیصلے کے خیرمقدم پر مشتمل مشترکہ بیان کی بھی حمایت کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے جاری کردہ دو ریاستی حل سے متعلق مشترکہ بیان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی معاملات پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں سعودی عرب اور مصر کے ساتھ رابطہ بھی شامل ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات پر بھی اتفاق کیا۔
اس سے قبل پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔
آٹھوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ برطانیہ کا اقدام عالمی برادری کو بھی ایسے اقدامات کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث اداروں اور افراد کو جواب دہ بنانے کے لیے متحرک کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف مزید ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے۔
پاکستان اور ترکیہ سمیت ان ممالک نے ایک مرتبہ پھر منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔
