New changes for news websites in Google Search; users' preferred sources will also be highlighted.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ نتائج میں خبروں کے لنکس زیادہ نمایاں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیوز پبلشرز کو خدشہ ہے کہ اے آئی کے تیار کردہ خلاصے صارفین کو اصل خبر پڑھنے کے لیے ویب سائٹس پر جانے سے روک رہے ہیں، جس کے باعث ان کے ٹریفک اور آمدنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گوگل نے جمعرات کو بتایا کہ دنیا بھر میں نیوز کیروسل کو وسعت دی جائے گی اور صارفین کے منتخب کردہ پسندیدہ ذرائع ابلاغ کو زیادہ نمایاں جگہ دی جائے گی۔ کمپنی کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ مواد میں متعلقہ ویب سائٹس کے لنکس پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح اور نمایاں انداز میں دکھائے جائیں گے۔

گوگل کے نیوز کیروسل میں اے آئی اوورویوز کے نیچے خبر کی سرخیوں اور تصاویر کے ساتھ لنکس دکھائے جاسکتے ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اے آئی کے تیار کردہ خلاصوں کے آخر میں موجود لنکس کو زیادہ نمایاں کیا جائے گا، جبکہ سوشل میڈیا اور آن لائن فورمز سے متعلقہ مواد بھی نتائج میں شامل ہوسکتا ہے۔

گوگل گزشتہ دو برس کے دوران سرچ میں اے آئی خصوصیات متعارف کراتا رہا ہے۔ مئی 2024 میں متعارف کرائے گئے اے آئی اوورویوز صارفین کو ویب لنکس کی فہرست کے بجائے سوالات کے مختصر خلاصے فراہم کرتے ہیں۔ مارچ 2025 میں کمپنی نے اے آئی موڈ بھی متعارف کرایا، جو ایک علیحدہ انٹرفیس میں زیادہ تفصیلی جوابات اور متعلقہ لنکس پیش کرتا ہے۔

الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے 2025 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج کے اعلان کے دوران بتایا تھا کہ اے آئی اوورویوز کے ماہانہ صارفین کی تعداد دو ارب سے تجاوز کرچکی تھی اور یہ سہولت 200 سے زائد ممالک میں دستیاب تھی۔

تاہم مختلف مطالعات میں اشارہ دیا گیا ہے کہ اے آئی خلاصوں کی موجودگی سے صارفین کے اصل ویب لنکس پر کلک کرنے کی شرح کم ہوسکتی ہے۔ چارٹ بیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان پبلشرز کو گوگل سے ملنے والی ٹریفک میں 40 فیصد کمی ہوئی۔

اگست میں فرانس کے روزناموں کی نمائندہ تنظیم اے پی آئی جی نے بھی مسابقتی اتھارٹی سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اے آئی خلاصے 2022 میں پبلشرز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں۔ گوگل کی تازہ تبدیلیاں ایسے میں سامنے آئی ہیں جب ڈیجیٹل صحافت کے لیے سرچ ٹریفک کی اہمیت پر بحث جاری ہے۔