اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے جمعے کو مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الخلیل میں بڑا آپریشن شروع کردیا، جس کے کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اسرائیلی فوج اور داخلی سکیورٹی ادارے شن بیت کے مطابق کارروائی میں مشتبہ مقامات کی تلاشی، فلسطینیوں سے پوچھ گچھ اور بعض عمارتوں کو مسمار کرنا شامل ہے۔
یہ آپریشن ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب اسرائیل میں منگل کو انتخابات ہونے والے ہیں اور وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اپنی وزارت عظمیٰ برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا کررہے ہیں۔ انتخابی مہم میں سکیورٹی اہم موضوع رہی ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے دائیں بازو کے اتحادی حملے کے مقام پر پہنچے اور مغربی کنارے میں مسلح گروہوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عزم ظاہر کیا۔
اسرائیلی فوج اور شن بیت کے مشترکہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز الخلیل کے علاقے میں ان مقامات کی تلاشی لے رہی ہیں جہاں سے حملہ آوروں کے آنے کا دعویٰ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مقصد مبینہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کی نشاندہی کرکے اسے ختم کرنا ہے۔ فوج نے یہ بھی بتایا کہ واقعے کے مقام پر ایسی غیرقانونی عمارتیں مسمار کی جارہی ہیں جو اس کے بقول سکیورٹی خطرہ بن سکتی ہیں۔ درجنوں مقامات پر انسداد دہشت گردی کارروائیاں جاری ہیں۔
اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے فرش الحوا چیک پوسٹ پر فائرنگ کا واقعہ دیکھا، جہاں دو فلسطینی مسلح افراد اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ فوٹوگرافر کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کے پاس پستول اور دوسرے کے پاس خودکار رائفل تھی۔ اسرائیلی فورسز نے دونوں فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ فوجیوں نے ایک بڑے حملے کو روک دیا اور مغربی کنارے میں لاک ڈاؤن کا حکم دیا۔ الخلیل کے دورے کے دوران انہوں نے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے ساتھ 1967 کی جنگ کے بعد اپنی نوعیت کے سب سے وسیع فوجی آپریشن پر غور کرنے کا ذکر کیا۔ ان کے مجوزہ منصوبے میں متعلقہ محلے سے رہائشیوں کو نکالنا، گھر گھر تلاشی اور مبینہ عسکری ڈھانچے کی تباہی شامل ہے۔ انہوں نے شمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں جنوری 2025 کے دوران کیے گئے آپریشن کو مثال کے طور پر پیش کیا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق ہزاروں افراد بے گھر ہوئے تھے۔
حماس نے حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر اسے بہادرانہ کارروائی قرار دیا اور مزید حملوں کی اپیل کی۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے غزہ جیسا وسیع آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کی بات کی۔ تاہم دستیاب معلومات میں فلسطینی اتھارٹی کے جمعے کے حملے سے تعلق کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم نے اجتماعی سزا کے منصوبوں اور ممکنہ جنگی جرائم کو روکنے کے لیے عالمی دباؤ کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی اور روزگار کو متاثر کرنے والی اسرائیلی پابندیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تشدد روکنے کی اپیل کی۔
