اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزنے اپنی خبر میں کہا ہے کہ کویت نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے اتوار کی شب ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران کویتی وزیر خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان کو مبارکباد پیش کی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں مقبوضہ مشرقی یروشلم کی صورتحال بھی شامل تھی۔ اس موقع پر پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کویتی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جبکہ اہم شعبوں میں باہمی تعاون اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ دونوں جانب سے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس سے قبل اسحاق ڈار نے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے بھی رابطہ کیا تھا۔ اس گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کینیڈین وزیر خارجہ کو معاہدے کی بنیادی روح اور تینوں ممالک کے علاقائی امن، استحکام اور سیکیورٹی میں کردار ادا کرنے کے مشترکہ عزم سے آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے اتوار کو واضح کیا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو ختم یا تبدیل نہیں کرتا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے بھی ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے مکہ معاہدے کو خالصتاً دفاعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔
ڈار کے مطابق معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے، بشرطیکہ وہ اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری، باہمی احترام، تعاون اور اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہوں۔
