اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم کے اعلیٰ حکام نے جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں ایران جنگ اور یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی پر کئی گھنٹے تک بند کمرے میں اجلاس کیا۔
اکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ غیر اعلانیہ اجلاس کی صدارت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی۔ اجلاس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی شریک ہوئے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اجلاس میں متعدد معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ بعض امور پر فیصلے بھی کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث ٹرمپ ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی پر غور کررہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار جنگی گروپ اور اضافی میرینز کے جہاز بھیجنے کی تیاری کررہا ہے، جس سے خطے میں مزید 10 ہزار تک فوجی پہنچ سکتے ہیں۔ ان فورسز کی آمد نومبر کے اختتام تک متوقع بتائی گئی ہے۔
ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب واشنگٹن سے یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائی میں شامل ہونے کا مطالبہ کررہا ہے، تاہم ٹرمپ اب تک اس معاملے میں محتاط رہے ہیں۔
اسی دوران سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل نما پروجیکٹائل جنوبی سعودی شہر نجران کے ایک اسکول سے ٹکرا گیا، جس سے عمارت کو مالی نقصان پہنچا، تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل سعودی اتحاد نے خمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائل روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
