اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوزکی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ پینٹاگون نے جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید ہنگامی فنڈز کی درخواست بھی کر دی ہے۔
امریکی سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ مذکورہ رقم میں اب تک ہونے والے فوجی اخراجات کے ساتھ 30 ستمبر تک متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اضافی فنڈز فوری فراہم نہ کیے گئے تو فوجی تربیت، دیکھ بھال اور مستقبل کی دفاعی تیاریوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ ماہ کانگریس سے تقریباً 90 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز طلب کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر رقم ایران جنگ سے متعلق اخراجات کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پینٹاگون نے مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی بھی درخواست کی ہے۔
سماعت کے دوران اپوزیشن ڈیموکریٹ ارکان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینیٹر پیٹی مرے نے کہا کہ انتظامیہ مسلسل جنگ میں توسیع کے اشارے دے رہی ہے جبکہ کانگریس کو صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں رکھا جا رہا۔ سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے بھی حکومت کے مؤقف کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو واضح نہیں بتایا جا رہا کہ جنگ محدود ہے یا مزید پھیلنے جا رہی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ تقریباً 430 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جولائی کے آغاز سے زخمی ہونے والے سو فوجیوں میں سے 96 فیصد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں ایران کے خلاف کارروائیاں مزید بڑھانے کے اشارے دیے ہیں۔ انہوں نے ایرانی توانائی تنصیبات، پلوں اور زیرِ زمین جوہری مراکز کو بھی ممکنہ اہداف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اہم تنصیبات کے خلاف کارروائی بہت جلد کی جا سکتی ہے۔
