Prime Minister to decide on brownfield refinery policy today, industry warns government

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جہاں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم پر فیصلہ متوقع ہے۔ اس فیصلے کو اربوں ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری اور پاکستان کے توانائی شعبے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اجلاس میں اوگرا، وزارت خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کی مشاورت سے تیار کی گئی تجاویز پیش کی جائیں گی۔ تاہم ریفائنری صنعت نے 7.5 فیصد ڈیَمڈ ڈیوٹی پروٹیکشن کو کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صنعت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں کی معاشی افادیت متاثر ہوگی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔

ریفائنری حکام کا کہنا ہے کہ اپ گریڈیشن معاہدوں میں تاخیر ان کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتی سطح پر انتظامی رکاوٹوں کے باعث ہوئی۔ ان کے مطابق تمام ریفائنریوں نے 2024 میں معاہدوں کے مسودے سے اتفاق کر لیا تھا اور صرف باضابطہ دستخط کا انتظار تھا۔ اس دوران پیٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کو متعدد بار معاہدوں پر عملدرآمد کی درخواستیں بھی دی گئیں۔

یہ مراعات ریفائنریوں کو یورو فائیو معیار کے ایندھن کی پیداوار، فرنس آئل میں کمی اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے متعارف کرائی گئی تھیں۔ صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ 7.5 فیصد ٹیرف پروٹیکشن دو دہائیوں سے نافذ ہے، اس لیے اسے کم کرنا پالیسی کے تسلسل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے پالیسی پر عملدرآمد کے لیے محدود ترامیم اور سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری قانون، چیئرمین اوگرا اور ایس آئ ایف سی کے نمائندے پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ تاہم اوگرا نے اپ گریڈیشن معاہدوں میں فریق بننے پر اپنے تحفظات بھی برقرار رکھے ہیں۔ ریفائنری صنعت کو امید ہے کہ حکومت سرمایہ کاری کے تحفظ اور توانائی کے شعبے میں اعتماد بحال رکھنے کے لیے اصل مراعاتی فریم ورک برقرار رکھے گی۔