اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت خطے میں امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور حالیہ جھڑپوں کے دوران اس کے مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز پر خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے۔
راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اے جے کے پولیس کے ترجمان اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس خاور علی شوکت نے کہا کہ حالیہ واقعات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک پرامن تحریک تھی۔ ان کے بقول، گزشتہ دو روز کے دوران مسلح افراد نے عمارتوں کے اندر مورچے قائم کرکے جدید اسلحے سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم جب پولیس اور سکیورٹی فورسز پر مسلح حملے کیے جائیں تو قانون کے مطابق کارروائی کرنا ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
ایس ایس پی خاور علی شوکت کے مطابق جھڑپوں میں رینجرز کا ایک اہلکار جاں بحق جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً 15 اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جدید اور بھاری اسلحے کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ اس کارروائی میں ملوث عناصر کوئی عام تنظیم نہیں بلکہ منظم نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ اے جے کے میں امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
