Attacks on Riyadh intensify; Saudi Arabia accuses Iran of backing the Houthis; Iran rejects the allegations.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)دی نیوز کی خبر کے مطابق ایران نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی اہداف پر تازہ حملوں میں اضافے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ حوثی اپنی ترجیحات اور جائزوں کے مطابق کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم ایران نے فریقین کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد سعودی اہداف پر حملے بڑھا دیے ہیں۔ ان حملوں میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں، تیل کی تنصیبات اور ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ ہفتے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو بیان میں کہا کہ ایران یمن میں حوثی کارروائیوں میں اپنے کردار سے متعلق ہر دعویٰ مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یمن کی مسلح افواج اپنے مفادات اور جائزوں کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں اضافہ کسی فریق کے مفاد میں نہیں اور ایران تنازع ختم کرانے کے لیے اپنے سفارتی ذرائع استعمال کرنے کو تیار ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری ڈاکٹر رائد کرملی نے اس سے قبل الزام لگایا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو تازہ کشیدگی پر اکسایا۔ ان کے مطابق حوثیوں نے حالیہ لڑائی کے آغاز میں عمان میں ملاقات کی پیشکش بھی مسترد کر دی تھی۔ کرملی نے تہران پر حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے، تربیت دینے اور حمایت کرنے کا الزام لگایا، جسے انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے جمعے کو بتایا کہ اتحادی افواج نے جنوبی علاقے اور ریاض کے قریب تین ڈرون، بحیرہ احمر کے اوپر دو کروز میزائل اور ساحلی شہر ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل تباہ کیا۔ ینبع میں ایک اہم تیل پائپ لائن کا اختتامی مرکز واقع ہے۔

حوثیوں نے ستمبر میں فوجی کارروائی کے دوران بحیرہ احمر کے ساحل پر حکومت کے زیرِ کنٹرول اہم علاقے قبضے میں لیے تھے۔ یہ ساحلی خطہ عالمی بحری تجارت کے اہم راستے کے قریب ہے۔ سعودی عرب پر دباؤ ایسے وقت بڑھ رہا ہے جب فروری میں وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں کو پہلے ہی متاثر کیا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل اور بڑھتے ہوئے حملوں، بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات اور ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کی سخت مذمت کی۔ سعودی اتحاد کے مطابق اسی ماہ ہوائی اڈے کو کم از کم 20 مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

یمن کی حکومت کی حمایت یافتہ افواج نے سعودی فضائی مدد کے ساتھ حوثیوں سے علاقے واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی، تاہم اب تک ان کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

جمعے کو عدن کے مقامی سکیورٹی دفتر نے بتایا کہ شہر کے ہوائی اڈے کی حدود میں دو میزائل گرے۔ حکام کے مطابق ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف سعودی افواج کا کمانڈ ہیڈکوارٹر اور اسلحے کا ذخیرہ تھا۔

اس سے ایک روز قبل عدن کے صدارتی محل پر حوثیوں کے میزائل حملے میں وزیر صحت کے مطابق پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے تھے۔ یمن کے وزیراعظم شائع الزندانی نے ایکس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حوثیوں کے مجرمانہ طرزِ عمل کا تسلسل قرار دیا۔