Alleged plot to attack British airbase All five suspects granted bail.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی خبر کے مطابق برطانوی پولیس نے امریکی فوج کے زیر استعمال راف فئیر  فورڈ ایئر بیس کے قریب مبینہ بم حملے کی سازش کے شبے میں گرفتار کیے گئے پانچ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا ہے، تاہم انسداد دہشت گردی پولیس نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات ختم نہیں ہوئیں اور واقعے میں کسی غیر ملکی ریاست کے ممکنہ کردار سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پانچوں افراد برطانوی شہری اور لندن کے رہائشی ہیں، جن کی عمریں 23 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ انہیں اتوار کو ایئر بیس کے قریب تین مشتبہ سفید وینز کی اطلاع ملنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق پانچوں کو دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم اور دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ اسسٹنٹ کمشنر لارنس ٹیلر نے کہا کہ انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

ٹیلر نے واضح کیا کہ رہائی کا مطلب تحقیقات کا اختتام نہیں، بلکہ مشتبہ افراد بدستور تفتیش کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق پولیس ہر ممکن پہلو سے جائزہ لے رہی ہے، جس میں ایسے افراد یا پراکسیز بھی شامل ہیں جو کسی غیر ملکی ریاست کے لیے جان بوجھ کر یا غیر دانستہ طور پر کام کر رہے ہوں۔

تینوں وینز کا فوجی اور فرانزک ماہرین کی مدد سے تفصیلی معائنہ کیا گیا جبکہ بم ڈسپوزل ماہرین نے بھی جائے وقوعہ پر کارروائی کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچوں افراد کی ضمانت پر رہائی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ایسا نہ کرتا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ واقعے میں واضح طور پر کسی غیر ملکی کردار کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات یا کسی ملک کا نام نہیں بتایا۔

ایران نے کسی بھی کردار کی تردید کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔

مقامی کسان نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ اس نے مشتبہ وینز اور نقاب پوش افراد دیکھے۔ واقعے کے بعد قریبی علاقے ویلفورڈ کے تقریباً 85 گھروں کو خالی کرایا گیا تھا۔

راف فئیر فورڈ امریکی بمبار طیاروں کے لیے اہم اڈہ ہے اور برطانیہ نے اسے ایران کے خلاف مخصوص امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔