اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ مصر نے سعودی عرب کی سرزمین، سلامتی اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ صدر عبدالفتاح السیسی نے ریاض کی درخواست پر فوجی معاونت کی اجازت دینے کے معاملے پر پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے حملوں میں شدت کے باعث خطے میں وسیع تر فوجی تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مصری پارلیمان نے فوجی معاونت کے معاملے پر مزید بحث پیر تک ملتوی کر دی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان لڑائی حالیہ ہفتوں میں تیز ہوئی ہے۔ حوثی دارالحکومت صنعاء اور ملک کے شمالی حصوں پر قابض ہیں۔
مصری ایوانِ صدر کے بیان میں کہا گیا کہ مصر سعودی عرب کی سلامتی، استحکام، علاقائی سالمیت، وسائل اور مقدس اسلامی مقامات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اور ممکنہ معاونت فراہم کرے گا۔ یہ اعلان السیسی کی زیرِ صدارت قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں پارلیمان کے اسپیکر، وزیراعظم اور آرمی چیف شریک تھے۔
السیسی نے ہفتے کو کہا تھا کہ مصر سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایات کے مطابق اقدام کرے گا۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کی پیش قدمی بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ مصر کی براہِ راست مداخلت اسے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں لا سکتی ہے۔ جولائی میں مصری بندرگاہ دمیاط پر بھی ڈرون حملہ ہوا تھا، تاہم کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مصر اور سعودی عرب قریبی تزویراتی اور اقتصادی شراکت دار ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے 2013 میں محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصر کو اربوں ڈالر کی امداد، مرکزی بینک میں رقوم اور سرمایہ کاری فراہم کی تھی۔ مصر 2015 میں یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کا حصہ بنا، تاہم اس کا جنگی کردار محدود رہا۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف مدد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ علاقائی اتحادیوں اور پاکستان سے بھی رجوع کیا ہے۔ ٹرمپ نے براہِ راست امریکی حملوں پر اتفاق نہیں کیا، تاہم واشنگٹن نے اہداف کی نشاندہی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی پیشکش کی۔ ادھر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اتوار کو ابوظبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی پر گفتگو ہوئی۔
