The test of tax reforms World Bank identifies major risks in Pakistan’s programs.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز  نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ ورلڈ بینک نے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات، معاشی استحکام اور سرکاری خدمات کی بہتری سے متعلق اپنے دو پروگراموں پر پیش رفت کو معتدل طور پر تسلی بخش قرار دیا ہے، تاہم ان کے نفاذ کو نمایاں خطرات لاحق ہیں۔ بینک کے مطابق پروگراموں کے اہداف میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بڑھانا اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا شامل ہے۔

واشنگٹن میں قائم ادارے نے پاکستان پبلک ریسورسز فار اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ ملٹی فیز پروگرام میٹک اپروچ کے مجموعی نفاذ کو معتدل طور پر تسلی بخش قرار دیا۔ اس پروگرام کی مالی اعانت 700 ملین ڈالر ہے، جبکہ رپورٹ میں زیر جائزہ دو پروگراموں کی مجموعی مالیت تقریباً 670 ملین ڈالر بیان کی گئی ہے۔ پریڈ – ایم پی اے پروگرام 19 جون 2025 کو مؤثر ہوا تھا۔

اس منصوبے کا ایک اہم ہدف پاکستان کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو جون 2025 کی 12.3 فیصد سطح سے بڑھا کر جون 2030 تک 15 فیصد تک پہنچانا ہے۔ ورلڈ بینک نے سیاسی اور حکمرانی کے خطرات کو بلند قرار دیا، جبکہ معاشی حالات، شعبہ جاتی پالیسیوں، ادارہ جاتی صلاحیت، مالیاتی نظم و نسق اور ماحولیاتی و سماجی معیارات سے متعلق خطرات کو معتدل سے نمایاں سطح تک بیان کیا۔

بینک کے مطابق پروگرام کے بیشتر مالی ادائیگیوں سے منسلک اشاریوں پر مضبوط پیش رفت ہوئی ہے، جو اصلاحاتی عمل میں تسلسل ظاہر کرتی ہے۔ حکومت تکنیکی معاونت کے جزو اور عمل درآمد کے انتظامات کو بھی عملی شکل دے رہی ہے۔ تاہم، منظوریوں میں تاخیر اور پروگرام کی شرائط پوری کرنے کے لیے تیاری کے مراحل پر دونوں فریق کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی گورننگ کونسل کی تشکیل اور چیف شماریات دان کی تقرری میں تاخیر کی نشاندہی بھی کی گئی۔ بینک کے مطابق پروگرام کے دوران یہ عہدہ خالی نہیں رہنا چاہیے اور کسی موجودہ سرکاری افسر کو باضابطہ طور پر اس عہدے کی ذمہ داریاں سونپنا مقررہ شرط کا متبادل نہیں۔ چیف شماریات دان کا عہدہ 24 ستمبر 2026 سے خالی ہونے کے باعث یہ شرط تاخیر کا شکار ہوئی۔

دوسرا پروگرام کنیکٹڈ پنجاب ہے، جس کے لیے 70 ملین ڈالر مختص ہیں اور جو جون 2031 تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام کو بھی سیاسی، حکمرانی، معاشی اور مالیاتی خطرات کے باعث معتدل سے نمایاں خطرے کی درجہ بندی دی گئی، اگرچہ بینک نے پنجاب حکومت کی اعلیٰ سطح پر مضبوط سرپرستی کو سراہا۔

منصوبے کے تحت براڈبینڈ رسائی، ڈیجیٹل سرکاری خدمات، مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری اور کیش لیس لین دین کو فروغ دیا جائے گا۔ اگلے مراحل میں ڈیٹا گورننس، ذاتی معلومات کے تحفظ اور سائبر سکیورٹی کی حکمت عملیوں پر کام شامل ہے۔