اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بلند رکھنا اور نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، حملوں کی نوعیت اور رفتار میں تبدیلی کی گئی ہے، جبکہ کارروائیوں کا دائرہ آبنائے ہرمز سے آگے خلیج عمان اور دیگر سمندری علاقوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے دو سینئر حکام نے بتایا کہ نئی حکمتِ عملی کا فیصلہ اعلیٰ ترین قیادت کی سطح پر کیا گیا اور اسے ملک کے حکومتی نظام کے مختلف حصوں کے ساتھ مربوط رکھا گیا ہے۔ ایک عہدیدار کے مطابق، تقریباً 10 روز قبل ان جہازوں کے خلاف مختلف طریقوں سے کارروائیاں شروع کی گئیں جنہیں ایران اپنی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا سمجھتا ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔ ایران کی دھمکیوں اور حملوں کے باعث بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی فوج کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں میں ریڈار نظام کو پہنچنے والے نقصان کے بعد چھوٹی کشتیوں میں غیر مسلح نگرانی کرنے والے افراد کا استعمال شروع کیا ہے۔ ان کا کام ممکنہ اہداف کی نشاندہی کرنا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک ایرانی نگرانی کرنے والی کشتی کو امریکی فورسز نے روکا، اس کے سواروں کو جہاز چھوڑنے کا کہا اور پھر کشتی تباہ کر دی۔ امریکی عہدیدار کے مطابق، واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سمندری سلامتی کے ذرائع کے مطابق، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہازوں سے متعلق کم از کم پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔ برطانوی بحریہ سے وابستہ ادارے یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران ایسی صورتِ حال کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں اس کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایک عہدیدار نے مکمل بندش کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ امریکی قیادت کی جانب سے اس کے برعکس ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الاسکا میں انتخابی ریلی کے دوران ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ تاہم، وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو تیل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش میں کامیابی نہیں ہونے دی جائے گی۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کے لیے یہ ایک شطرنج کی بازی ہے اور آبنائے ہرمز سے باہر بھی جہاز محفوظ نہیں رہیں گے۔
دوسری جانب، امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ممکنہ بڑی کارروائی پر بات کی تھی، تاہم اس رپورٹ پر متعلقہ فریقوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو مزید غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ مہنگی انشورنس، بحری سلامتی کے خطرات اور حملوں کے خدشات معمول کی جہاز رانی کی بحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
