اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے بدھ کو بتایا کہ سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کے دھراں کمپلیکس میں ایک انتظامی عمارت حملے کی زد میں آئی، جس کے بعد محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ وزارت کے مطابق ہنگامی ٹیموں نے منگل کی رات کارروائی کرتے ہوئے ضروری اقدامات کیے اور واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس سے قبل ایک کمپنی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ آرامکو کے ہیڈکوارٹر کمپلیکس پر بیلسٹک میزائل گرا، جس سے ایک دفتری عمارت کی بالائی تین منزلوں کو نقصان پہنچا۔ واقعے سے واقف دو دیگر افراد نے بھی عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع دی تھی۔
یہ کمپلیکس آرامکو کے اہم آپریشنز مراکز میں شامل ہے، جہاں سے زمینی اور سمندری تیل کے کنوؤں، پائپ لائنوں، ریفائنریوں اور برآمدی ٹرمینلز کے وسیع نیٹ ورک کی نگرانی کی جاتی ہے۔
یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے تیز کیے ہیں۔ یہ کارروائیاں یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی جنگ میں سعودی عرب کی حکومتی فورسز کی حمایت کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
سعودی شہری دفاع کے مطابق ریاض میں دو میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ رہائشی علاقوں میں گرا، جس سے چار افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ دارالحکومت کے 15 گھروں کو محدود نقصان پہنچا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دھراں میں ایک میزائل تباہ کرنے کے بعد اس کے ٹکڑے رہائشی علاقے میں گرنے کی تصدیق کی۔ حکام نے ریاض اور جنوبی علاقوں میں میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں کی بھی اطلاع دی۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی حملوں کے جواب میں ’سخت اور تکلیف دہ‘ ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے آرامکو کے ہیڈکوارٹر اور ریاض کی ایک آئل ریفائنری کو ممکنہ اہداف میں شامل کیا تھا۔ گروپ نے سعودی تیل تنصیبات کے کارکنوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ ممکنہ اہداف سے دور رہیں۔
سعودی عرب نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی ہیں۔ گزشتہ ماہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر پیش قدمی کرتے ہوئے اہم باب المندب آبنائے کے قریب علاقوں میں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ حکومتی کارروائی کے بعد انہیں آبنائے کے قریب ترین علاقے سے پیچھے دھکیلا گیا، تاہم وہ قریبی علاقوں میں اب بھی مضبوط موجودگی رکھتے ہیں۔
فروری میں ایران جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد باب المندب سعودی عرب اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے مزید اہم ہوگیا ہے۔ سعودی عرب اپنے اتحادیوں سے دفاعی مدد چاہتا ہے، لیکن امریکا نے حوثیوں کے خلاف جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے تاحال گریز کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو ریاض اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی، جس کا ان کی وزارت نے پیر کو بھی اعادہ کیا۔
