اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات میں تین ملکی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔
اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔
ملاقات میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے ادارہ جاتی ڈھانچے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق جنرل سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام اور ان کی سرگرمیوں کے آغاز کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
معاہدے کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا، جہاں تینوں ممالک کے حکام نے اس اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر کام شروع کیا۔ اس موقع پر ریاض میں قائم کیے جانے والے سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کو سونپی گئی تھی۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی مذمت بھی کی اور معاہدے کے تحت مملکت کی معاونت کے لیے تینوں ممالک کے چیف آف اسٹاف کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کے انتظامات پر گفتگو کی۔
تینوں وزرائے خارجہ نے سعودی مسلح افواج کی چوکسی اور دفاعی صلاحیتوں کو سراہا، جبکہ سعودی عرب کے اپنے دفاع کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے کے حق پر بھی زور دیا گیا۔
ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال، بین الاقوامی قانون، اچھی ہمسائیگی، ریاستی خودمختاری کے باہمی احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تینوں ممالک نے سمندری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ بحری نقل و حرکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے موجودہ علاقائی بحرانوں کے پرامن حل اور سفارتی ذرائع کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔
