اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے مطابق کویت کے تین اڈوں اور سعودی عرب کے ایک فوجی اڈے پر سیکڑوں عمارتیں اور دیگر ڈھانچے متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو حاصل تصاویر اور ویڈیوز میں بعض فوجی تنصیبات اور طیاروں کو نقصان پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس پر مارچ کے آخر میں ایک ای-3 سنٹری نگرانی طیارہ بھی متاثر ہوا، جس کی مالیت تقریباً 270 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
ایک سینئر امریکی فوجی اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بعض اڈوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور اگر انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس عمل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران سیکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں جنگ کی لاگت تقریباً 33 ارب ڈالر بتائی گئی، جبکہ غیر جانب دار کانگریشنل بجٹ آفس نے اخراجات کا تخمینہ 38 ارب ڈالر لگایا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے 18 امریکی فوجی ہلاک اور 824 زخمی ہوچکے ہیں۔ سب سے ہلاکت خیز حملے میں کویت کے پورٹ شعیبہ پر 6 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ فورس پروٹیکشن اولین ترجیح ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض ایرانی ہتھیار امریکی دفاعی نظام سے گزرنے میں کامیاب ہوئے۔
دوسری جانب یمن میں بھی لڑائی میں شدت کی اطلاعات ہیں۔ یمنی حکام کے مطابق طائز کے مختلف محاذوں پر جھڑپوں اور فضائی حملوں میں 30 حوثی جنگجو ہلاک اور 60 زخمی ہوئے، جبکہ سرکاری فورسز نے جبل البزیلہ اور مدخولہ کے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا، جس کے بعد دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 30 منٹ بعد الرٹ ختم کردیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں امریکی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 22 بتائی گئی، تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس دعوے کو مکمل جھوٹ قرار دیا۔
