اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان سے فوری طور پر اشتعال انگیز اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحرین کی درخواست پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حوثیوں کے حملے سمندری سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
اجلاس کا موضوع محفوظ سمندر، مشترکہ سلامتی: بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں آزادیٔ نقل و حرکت کا تحفظ تھا۔ بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے اجلاس کی صدارت کی۔
عاصم افتخار نے کہا کہ باب المندب میں صورتحال تیزی سے غیر مستحکم ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے بھی صورتحال کوبڑھتی ہوئی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے بحیرہ احمر اور باب المندب میں بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری نقل و حرکت کی آزادی بحال کرنے پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
بحرین کے نمائندے جمال فارس الرویعی نے حوثی کشیدگی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یمن کا انسانی بحران بھی مزید سنگین ہوا ہے اور شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
سعودی نمائندے عبدالعزیز ایم الوصیل نے کہا کہ حوثی کارروائیاں یمن، علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور سپلائی چینز کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں شہری زخمی ہوئے، جبکہ 14 ستمبر سے حملوں میں دوبارہ اضافہ ہوا۔
چین کے نمائندے سن لی نے بھی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کی طرف واپسی پر زور دیا۔
عاصم افتخار نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہرمز اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ہرمز سے عالمی تجارت میں شامل تقریباً ایک تہائی خام تیل اور کھاد کی تجارت کا اہم حصہ گزرتا ہے۔
انہوں نے فوری کشیدگی میں کمی، جہازوں اور عملے کی سلامتی اور معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پیش رفت ہوئی۔ ان کے مطابق پاکستان سمندری اور علاقائی امن کے لیے مذاکراتی حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔
