Field Marshal Asim Munir to arrive in Tehran today, Iran threatens to shut down Gulf oil trade

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوز کی خبر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر آج  تہران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ خطے میں امن و سلامتی، امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کی دھمکی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اہم بات چیت کریں گے۔ 

ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن ایران کے خلاف نئی اور سخت ترین معاشی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ معاشی جنگ جاری رہی تو خلیج فارس سے تیل کی برآمد مکمل طور پر روک دی جائے گی۔

پاکستانی حکومتی ذرائع نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان براہ راست رابطہ جاری ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت سے حالیہ علاقائی صورتحال، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پابندیوں کی دھمکی اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال ہوگا۔

ذرائع کے مطابق عاصم منیر پاکستان کے مفاہمتی فریم ورک، ٹرمپ کی دھمکی، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے حالیہ معاہدے اور حوثیوں سے متعلق معاملات پر بھی ایرانی رہنماؤں سے بات کریں گے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف نئی کارروائی کو اب تک کی سب سے بڑی مالی یلغار قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ معاشی اور مالی روابط رکھنے والے ممالک کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اگر معاشی جنگ جاری رہی تو ایک قطرہ بھی تیل برآمد نہیں ہوگا ، چاہے تیل آبنائے ہرمز سے جائے یا خلیج فارس کے کسی اور راستے سے۔ انہوں نے امریکی معاشی جنگ میں کسی بھی ملک کی شرکت کو ایران کے خلاف جنگی اقدام قرار دینے کی دھمکی بھی دی۔

چین نے بھی امریکی دباؤ پر ایران کے خلاف مزید اقدامات کے مطالبے پر کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ مسئلے کا حل نہیں۔ دوسری جانب ایران کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھتا۔