اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکا کی حمایت سے شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ تیز ہوگئی ہیں اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اتوار کو اردن میں اہم مذاکرات کیے۔ شامی سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق ملاقات میں اسرائیلی حملوں، گرفتاریوں اور ہدف بنا کر کی جانے والی کارروائیوں کو روکنے کے لیے عملی طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
مذاکرات میں دونوں فریقوں کے درمیان معطل سکیورٹی مذاکرات بحال کرنے اور ایسے معاہدے کی راہ ہموار کرنے پر بھی بات ہوئی جو مستقبل میں وسیع تر جنگ بندی کی بنیاد بن سکے۔
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کو بتایا تھا کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کی توقع رکھتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
اتوار کے مذاکرات میں شام نے واضح کیا کہ اس کی فوری ترجیح اسرائیلی فوج کا ان پوزیشنز تک واپس جانا ہے جہاں وہ 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے پہلے موجود تھی۔
دمشق نے 1974 کے علیحدگی اور جنگ بندی معاہدے کی مکمل بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔ شام نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اسے اپنی فوج کی تعمیر نو، دفاعی صلاحیت بڑھانے اور اپنے اتحادیوں یا شراکت داروں کا انتخاب کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
شام نے گولان کی پہاڑیوں پر اپنے حق کا دعویٰ بھی دہرایا تاہم اس علاقے کی حتمی حیثیت پر بات چیت کو فی الحال قبل از وقت قرار دیا۔
اسرائیل نے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام کے فوجی مقامات پر متعدد حملے کیے ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیلی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ دمشق اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے اور اسرائیلی حملوں اور دراندازی کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
