Tensions flare up again in the Red Sea, Houthis claim to have attacked a Saudi warship and 4 ships

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی فوجی بحری جہاز اور اس کے ساتھ موجود چار حفاظتی بحری جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے پیر کو ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی ایمفی بیئس ٹرانسپورٹ جہاز اور اس کے ہمراہ موجود بحری جہازوں کو مشترکہ میزائل اور ڈرون حملے میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر حوثیوں کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

یہ واقعہ موچا کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ موچا بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ ہے جو باب المندب آبنائے کے قریب واقع ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے اور عالمی تجارت میں اس کی اسٹریٹجک حیثیت انتہائی اہم ہے۔

حوثیوں نے گزشتہ منگل کو بھی باب المندب کے جنوبی داخلی راستے پر ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے ’سبا‘ کے مطابق یمنی وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا تھا کہ اس حملے میں چار عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔

حوثیوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یمن پر سعودی ’’محاصرے‘‘ کے جواب میں کیا گیا ہے، تاہم ریاض اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

ادھر یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے دو ذرائع نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ حوثیوں نے باب المندب میں ایک بحری جہاز پر چھ میزائل داغے۔

باب المندب عالمی بحری تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور عالمی سپلائی چین کے لیے نئے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔