اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی پیشکش کردی ہے، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی حملوں میں تہران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق محکمہ خارجہ کے پروگرام ’ریوارڈز فار جسٹس‘ کے تحت ایران کے جوہری ڈھانچے، تنصیبات، آلات اور اس پروگرام سے وابستہ افراد کے بارے میں معلومات طلب کی گئی ہیں۔
خاص طور پر ایرانی سائنسی برادری کے ارکان اور جوہری آلات کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مستند معلومات فراہم کرنے والوں کو 20 ملین ڈالر تک انعام دیا جاسکتا ہے، جبکہ انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔
ریوارڈز فار جسٹس پروگرام 1984 میں امریکی محکمہ خارجہ کے قومی سلامتی انعامی منصوبے کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد امریکی شہریوں اور مفادات کے تحفظ میں مددگار معلومات حاصل کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے انعام کے اعلان میں ایران پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی حفاظتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
بیان کے مطابق اس صورت حال کے باعث ایجنسی ایران میں سینٹری فیوجز سمیت اہم جوہری اجزا کی پیداوار اور ذخیرے سے متعلق معلومات کا تسلسل برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہوئی۔
امریکی نوٹس میں آئی اے ای اے کی 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران 60 فیصد تک افزودہ یورینیم تیار کررہا تھا، جو ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی تقریباً 90 فیصد افزودگی کی سطح کے قریب ہے۔ واشنگٹن کے مطابق ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے والا واحد ملک ہے جس نے یورینیم کی اتنی بلند سطح پر افزودگی کی۔
دوسری جانب ٹرمپ نے جمعے کو فلوریڈا میں کہا کہ اگر امریکا ایران پر حملے نہ کرتا تو اسرائیل آج موجود نہ ہوتا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کی معیشت اور فوج آٹھ ماہ کی جنگ میں شدید نقصان اٹھا چکی ہے اور تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے اس ہفتے یہ بھی کہا تھا کہ ایران میں ایک یا دو اہداف، بشمول مشتبہ جوہری مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘، سے نمٹنا ابھی باقی ہے۔ تہران اس مقام کو جوہری تنصیب قرار دینے کی تردید کرتا ہے۔
