The war in West Asia raised questions about India's diplomatic strategy, analytical article by Avinash Paliwal in Hindustan Times

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تجزیہ نگار اویناش پالیوال کے مضمون پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے  کہ امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ اور اس کے بعد سامنے آنے والے سفارتی معاہدوں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور تزویراتی صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے، جبکہ اس بحران نے بھارت کی علاقائی پالیسی اور سفارتی ترجیحات پر بھی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بھارتی تجزیہ نگار اویناش پالیوال نے اپنے مضمون مغربی ایشیاء کے تنازعہ میں غلط خطوط کی قیمت میں لکھا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کے آغاز سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم اس پورے بحران نے یہ واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور علاقائی سیاست کو صرف فوجی قوت کے ذریعے تبدیل کرنا آسان نہیں۔

مضمون کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے نے دونوں ممالک کو مذاکرات کے ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد اثاثوں تک رسائی اور مستقبل میں وسیع تر مذاکرات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ تجزیہ نگار کے مطابق ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے باوجود مکمل طور پر تنہا یا کمزور نہیں ہوا بلکہ وہ مذاکرات کی میز پر ایک مؤثر فریق کے طور پر موجود ہے۔

اویناش پالیوال کا کہنا ہے کہ بھارت نے گزشتہ برسوں میں اسرائیل، امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی، تاہم حالیہ بحران نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ایران اب بھی خطے کی سیاست، توانائی کی ترسیل، تجارتی راہداریوں اور سکیورٹی معاملات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق نئی دہلی کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ مستقبل میں اپنی علاقائی حکمتِ عملی کو زیادہ متوازن انداز میں ترتیب دے۔

تجزیے میں اسرائیل کی عسکری کارروائیوں اور ان کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق اسرائیل نے اگرچہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچایا، لیکن خطے میں اپنی تمام تزویراتی ترجیحات حاصل نہیں کر سکا۔ اس صورتحال نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ فوجی کامیابیاں ہمیشہ مطلوبہ سیاسی اور سفارتی نتائج کی ضمانت نہیں ہوتیں۔

مضمون میں پاکستان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور علاقائی رابطوں نے اسلام آباد کو بھی ایک حد تک فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مصنف کے مطابق خطے میں بدلتی صورتحال نے کئی ممالک کو اپنی خارجہ پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

اویناش پالیوال اپنے تجزیے کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ مغربی ایشیا میں جاری تبدیلیاں بھارت کے لیے ایک اہم سبق ہیں۔ ان کے مطابق نئی دہلی کو کسی ایک علاقائی بلاک یا شراکت داری پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے ایسی خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی جو مختلف علاقائی قوتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنے اور طویل المدتی قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔