اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کے جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظامِ شمسی کے سب سے دور واقع سیارے نیپچون کے گرد اربوں سال قبل پیش آنے والے ایک عظیم خلائی حادثے کے شواہد دریافت کر لیے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق کے مطابق پلوٹو کے حجم کے برابر ایک عظیم جرمِ فلکی کی آمد نے نیپچون کے قدیم چاندوں کو تباہ کر دیا، جبکہ آج موجود اس کے چھوٹے چاند اور حلقے اسی تباہی سے پیدا ہونے والے ملبے سے دوبارہ تشکیل پائے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسس میں شائع ہوئی ہے، جس میں محققین نے نیپچون کے تین اندرونی چاندوں پروٹیئس ، لاریسا اور گیلیٹیا کے ساتھ ساتھ سیارے کے گرد موجود گرد آلود اندرونی حلقوں کا جدید آلات کی مدد سے تفصیلی مشاہدہ کیا۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ان چاندوں پر میگنیشیم سے بھرپور مٹی نما معدنیات دریافت کیں، جو عام طور پر اس وقت بنتی ہیں جب پانی طویل عرصے تک چٹانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ اس قسم کی معدنیات اس سے قبل بونے سیارے سیرس اور بعض شہابی پتھروں میں بھی دریافت ہو چکی ہیں، تاہم نیپچون کے چھوٹے چاندوں پر ان کی موجودگی سائنس دانوں کے لیے حیران کن ثابت ہوئی۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو سے وابستہ سیاروی سائنس دان رائلی ڈیوس کے مطابق موجودہ اندرونی چاند نہ تو اتنے بڑے ہیں اور نہ ہی ان کا اندرونی ماحول ایسا ہے کہ وہاں پانی اور چٹانوں کے درمیان طویل کیمیائی عمل کے نتیجے میں یہ معدنیات خود بن سکیں۔ ان کے بقول اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ مواد کسی بہت بڑے اور قدیم جرمِ فلکی کے اندرونی حصے سے آیا، جو ماضی میں تباہ ہو چکا تھا۔
محققین کے مطابق اس تباہ کن واقعے کا اصل سبب ٹرائٹن تھا، جو اس وقت نیپچون کا سب سے بڑا چاند ہے لیکن ابتدا میں وہ نظامِ شمسی کے بیرونی علاقے کوائپر بیلٹ کا حصہ تھا، جہاں پلٹو سمیت بے شمار برفیلے اجرام موجود ہیں۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 4.5 ارب سال قبل، نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی ایک ارب برس کے دوران، جب بڑے گیس نما سیارے اپنی موجودہ مداروں کی طرف منتقل ہو رہے تھے، نیپچون کی طاقتور کششِ ثقل نے ٹرائٹن کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نیپچون کے مدار میں داخل ہونے کے بعد ٹرائٹن کی شدید کششِ ثقل نے نیپچون کے اصل چاندوں کے مداروں کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف نیپچون کے پیچیدہ ماضی کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے ابتدائی دور میں سیاروں اور ان کے قدرتی چاندوں کی تشکیل و ارتقا بڑے خلائی تصادمات اور کششِ ثقل کی تبدیلیوں سے کس حد تک متاثر ہوئی۔
