اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش نے وزیراعظم طارق رحمان کے بھارت کے ممکنہ دورے سے متعلق بھارتی میڈیا کی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کے پریس سیکریٹری اے ایم صالح نے جمعہ کو بتایا کہ ڈھاکا بھارت کے جواب کا منتظر ہے، جبکہ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ طارق رحمان 23 سے 25 اگست تک نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔
یہ طارق رحمان کا فروری میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہوتا۔ دونوں ہمسایہ ممالک گزشتہ کئی ہفتوں سے اس دورے کے حوالے سے رابطے میں ہیں، تاہم 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی اب بھی اہم مسئلہ ہے۔
شیخ حسینہ طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں اپنی طویل حکومت ختم ہونے کے بعد بھارت چلی گئی تھیں اور اس وقت وہ وہیں جلاوطنی میں مقیم ہیں۔ ڈھاکا متعدد مرتبہ نئی دہلی سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کرچکا ہے، تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے رہا ہے۔
اے ایم صالح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے دورے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ اور دیگر مفرور مجرموں کی حوالگی کے معاملے پر جواب کا منتظر ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طارق رحمان کے ممکنہ دورے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان موجود دیگر سفارتی معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ نے بھی جمعہ کو دورے کی تصدیق نہیں کی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے معمول کی میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ اس معاملے پر ان کے پاس کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن شیخ حسینہ کی بھارت میں موجودگی اور ان کی حوالگی کا معاملہ اب بھی تعلقات میں ایک حساس نکتے کے طور پر موجود ہے۔ طارق رحمان کے دورہ بھارت سے متعلق حتمی فیصلہ اب دونوں حکومتوں کے درمیان مزید مشاورت اور نئی دہلی کے جواب کے بعد متوقع ہے۔
