اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق صدارتی اعلانات کی منظوری دے دی، تاہم اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور قراردادوں کی نقول پھاڑ دیں۔ احتجاج کے باعث کارروائی میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے صدارتی اعلانات پیش کیے۔ ایوان نے کارروائی سے متعلق تحریک 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور کی، جس کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق قراردادوں کی منظوری کا مرحلہ مکمل ہوا۔
حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں قائم صوبائی انتظامیہ کے اختیارات معطل ہوگئے۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کی وجہ امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر صوبائی و وفاقی حکام کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان قرار دیا۔
قانون و انصاف کے وزیر اعظم نذیر تارڑ نے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے آخری راستہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی گورنر نے صدر اور وزیراعظم کو صورت حال سے متعلق تفصیلی خط لکھا تھا، جبکہ وفاقی کابینہ نے تقریباً ڈھائی گھنٹے غور کے بعد آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت کارروائی کی سفارش کی۔ انہوں نے مارشل لا سے موازنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئینی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھی ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے دہشت گردی کی وجوہات کو داخلی کمزوریوں اور ماضی کی پالیسیوں سے جوڑتے ہوئے گورنر راج پر تنقید کی۔ انہوں نے سیاسی مذاکرات، پارلیمان کی بالادستی اور صوبائی حقوق پر زور دیا۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی دہشت گردی کی حمایت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے۔
آئین کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دو ماہ کے لیے دی جاسکتی ہے، جبکہ توسیع کے لیے دوبارہ مشترکہ اجلاس کی منظوری درکار ہوگی۔ گورنر راج کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک ہوسکتی ہے۔
