اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں اقتدار کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ہو، اسلام آباد اپنی طویل المدتی شراکت داری اور قومی مفادات کو ترجیح دے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امریکا کی تمام حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے ہیں اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی جاری رہے گی۔
ان کے مطابق تجارت، سرمایہ کاری، سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور معدنی وسائل میں سرمایہ کاری دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم شعبے ہیں۔
بریفنگ کے دوران پاکستان کی امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے کی سفارتی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ایک مخلص ثالث کی حیثیت سے ہر ممکن سہولت فراہم کی ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم کامیابی تھی، کیونکہ پاکستان نے 47 برس سے براہ راست بات چیت نہ کرنے والے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ترجمان نے اسرائیل کو بھی خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عوامل میں شامل قرار دیا۔
سجاد حیدر خان نے تصدیق کی کہ پاکستانی منزل کے لیے قطر انرجی کا ایل این جی بردار جہاز المعیدہ آبنائے ہرمز کے قریب خلیج فارس میں بین الاقوامی پانیوں سے گزرتے ہوئے میزائلوں یا نامعلوم پروجیکٹائلز کی زد میں آیا۔ مارشل آئی لینڈ میں رجسٹرڈ جہاز پر 25 رکنی عملہ موجود تھا، جس میں پاکستانی بھی شامل تھے۔
واقعے میں معمولی آگ لگی، تاہم کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور جہاز بحفاظت قطر واپس پہنچ گیا۔
ایران کے ساتھ سرحدی تجارت میں تعطل سے متعلق سوالات پر ترجمان نے مزید وضاحت سے گریز کیا، تاہم کہا کہ زمینی راستے سے پاکستانی زائرین کے ایران جانے پر عمومی پابندی نہیں، البتہ سیکیورٹی خدشات اور جھڑپوں سے آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
افغان شہریوں کی ممکنہ پاکستان منتقلی سے متعلق امریکی منصوبے پر انہوں نے کہا کہ معاملہ متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد زیر غور ہے اور کسی حتمی انتظام یا آمد کی تصدیق نہیں کی۔
ترجمان نے بھارت سے مذہبی زائرین کے لیے پاکستان کی سہولت کاری کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق 2025 میں بھارتی زائرین کو 9 ہزار 318 ویزے جاری کیے گئے، جن میں 9 ہزار 70 سکھ اور 248 ہندو زائرین شامل تھے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں سکھ زائرین کو مزید 4 ہزار 2 ویزے دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ بابا گورو نانک دیو جی کے 557ویں جنم دن کے موقع پر ننکانہ صاحب میں سکھ یاتریوں کی میزبانی کی تیاریاں جاری ہیں۔
پاکستان کرتارپور راہداری کو اپنی جانب سے کھلا رکھے ہوئے ہے اور روزانہ 5 ہزار زائرین کو ویزا فری سہولت دینے کے لیے تیار ہے، تاہم آمدورفت کی بحالی کا فیصلہ بھارت کو کرنا ہے۔
