اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف فوری طور پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سعودی جہازوں کی آمدورفت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی راستوں پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے خلاف آنکھ کے بدلے آنکھ کی پالیسی کے تحت بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام یمن پر عائد محاصرے اور سعودی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
اعلان کے فوراً بعد یمن میں سعودی قیادت والے عسکری اتحاد نے کہا کہ وہ اس اقدام کا طاقت سے جواب دے گا اور باب المندب سے گزرنے والے اپنے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ثالث ممالک نے جنگ بندی کے لیے نئی تجاویز تہران کو پہنچائی ہیں، تاہم ان کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں پر ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ حالیہ حملوں میں امریکی فوج کے مزید اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
