Historic French city hall consumed by fire; collapse of 43-meter-tall tower evokes memories of Notre-Dame.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ فرانس کے شہر لیموج میں ہفتے کی شب نقاب پوش مظاہرین کے حملے کے بعد 19ویں صدی کی تاریخی سٹی ہال کی عمارت شدید آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ آگ سے عمارت کی چھت منہدم ہو گئی اور اس کا مشہور گھڑی والا مینار بھی گر گیا۔ واقعہ مہنگائی اور عوامی مشکلات کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آیا، جو کئی برسوں کے بدترین پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اتوار کو شہری تباہ حال عمارت کو دیکھ کر صدمے میں تھے۔ یہ عمارت دو عالمی جنگوں کے دوران محفوظ رہی تھی، مگر ہفتے کی شب آگ نے اس کے بڑے حصے کو نقصان پہنچایا۔ اس منظر نے 2019 میں پیرس کے نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی آگ اور اس کے مینار کے گرنے کی یاد تازہ کر دی۔

مقامی رہائشی فرانسوا فاؤری نے کہا کہ ان کا دل ٹوٹ گیا اور انہیں یوں محسوس ہوا جیسے نوٹرے ڈیم کا واقعہ دوبارہ سامنے آ گیا ہو، مگر اس بار ان کا اپنا شہر نشانہ بنا۔ ان کے خاندان نے ایک ماہ بعد اسی عمارت میں اپنی پوتی کی بپتسمہ تقریب منعقد کرنا تھی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو احتجاج اور مطالبات کا حق حاصل ہے، لیکن تشدد کا کوئی جواز نہیں۔

مقامی پریفیکٹ موریس باراتے کے مطابق عمارت کی چھت نچلی منزلوں پر گر گئی، جبکہ صرف مغربی حصہ نسبتاً محفوظ رہا۔ بیرونی حصے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ انہوں نے اس تباہی کو ثقافتی ورثے کا سانحہ قرار دیا۔ عمارت 1883 میں کھولی گئی تھی اور اسے پیرس کے سٹی ہال سے متاثر ہو کر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کا مرکزی گھڑی والا مینار اور گھنٹہ گھر 43 میٹر بلند تھا۔

شہر کے میئر گیوم گوراں نے بتایا کہ کئی سو افراد پر مشتمل ہجوم نے کھڑکیاں توڑیں اور مرکزی دروازہ توڑنے کے لیے بھاری آلہ استعمال کیا۔ ان کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری ناقابلِ برداشت ہے۔ میئر نے کہا کہ قومی پولیس کے اہلکار سڑکوں پر مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات تھے، اس لیے سٹی ہال کے تحفظ کے لیے نفری ناکافی تھی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی ملک گیر بدامنی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی شکایت یا اختلاف سے تشدد کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں، دکانوں اور ٹاؤن ہالز کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ میکرون نے پُرامن مظاہرین کے جائز مطالبات اور توڑ پھوڑ کرنے والوں میں فرق کرنے پر بھی زور دیا۔

ایک مقامی شہری گلبر نے کہا کہ عمارت جلانے کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے اور نقصان کا خرچ ریاست پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ ریٹائرڈ نرس ایدتھ لورسن نے بھی واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کے جواب میں مزید نفرت پھیلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔