Gulf countries call on US and Iran for immediate ceasefire and talks

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتی فوجی کشیدگی پر خلیجی ممالک نے فوری جنگ بندی، سفارتی مذاکرات کی بحالی اور خطے میں مزید تصادم سے گریز پر زور دیا ہے۔ عرب رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال پورے مشرق وسطیٰ کو وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ٹیلیفونک رابطے میں فوری جنگ بندی، مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل آٹھویں رات ایران کے ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری اثاثوں اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بعض حملے دارخوین کے قریب جوہری تنصیب کے اطراف بھی کیے گئے۔

ایران نے جواب میں کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ کویتی حکام کے مطابق ایک بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو دوبارہ نقصان پہنچا۔ اردن نے عقبہ کی جانب آنے والے تین ایرانی میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ بحرین نے بھی متعدد ڈرون اور میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔

امریکی فوج کے مطابق اردن میں حالیہ حملے کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 16 ہو گئی ہے، جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کی واشنگٹن نے تصدیق نہیں کی۔

ادھر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے ممکنہ دورۂ اسلام آباد کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جہاں خطے کی موجودہ صورتحال پر اہم مشاورت متوقع ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا واشنگٹن کی اولین ترجیح ہے۔

دوسری جانب عرب لیگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی، تجارتی راستوں اور خطے کے امن و استحکام پر بھی مرتب ہوں گے، جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے دارخوین جوہری مقام کے قریب حملے کی اطلاعات کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے۔