اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی جانب اپوزیشن کے لانگ مارچ کی تاریخ مؤخر کیے جانے کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ شہباز شریف نے اچکزئی کو بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے، تاہم رپورٹ کے وقت تک اپوزیشن رہنما کی جانب سے دعوت کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ محمود اچکزئی کو وزیراعظم کی دعوت موصول ہوگئی ہے۔ وزیراعظم اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں اور چند روز میں پاکستان واپس آنے کی توقع ہے۔
یہ وزیراعظم کی جانب سے اچکزئی کو مذاکرات کی دوسری دعوت ہے۔ اس سے قبل 11 ستمبر کو شہباز شریف نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر آئینی مشاورت کے لیے بھی قائد حزب اختلاف کو مدعو کیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری آئین کے آرٹیکل 213(2A) کے تحت وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت سے ہوتی ہے۔ وزیراعظم تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں، جو امیدواروں کا جائزہ لینے کے بعد ایک نام کی منظوری دیتی ہے۔
تازہ دعوت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ہونے والا اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے فیصلہ متفقہ طور پر کیا۔
اس سے قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق بھی وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر مل بیٹھ کر مشاورت کی تجویز دے چکے ہیں۔
اب وزیراعظم کی تازہ دعوت پر محمود اچکزئی کا جواب اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ممکنہ براہ راست رابطہ آئندہ سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
