اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 36 زخمی ہوگئے، جبکہ پڑوسی ملک یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔
سعودی شہری ہوابازی حکام کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ ابہا ایئرپورٹ کی تنصیبات پر حملے میں 2 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوئے۔
حکام نے بتایا کہ دونوں حملے منگل اور بدھ کو ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا حملہ کس روز پیش آیا۔
ادھر یمن کے حوثیوں نے بدھ کو عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور دھماکا خیز ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایک میزائل رن وے کے قریب اس وقت گرا جب قاہرہ سے آنے والی پرواز لینڈنگ سے چند منٹ کے فاصلے پر تھی۔
یمن میں حالیہ لڑائی باب المندب آبنائے کے اطراف میں مرکوز ہے، جو آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے مزید اہم ہوچکی ہے۔
یمنی حکومتی فورسز نے سعودی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کی ہے۔ حکومتی فورسز ستمبر میں حوثیوں کے قبضے میں جانے والے اسٹریٹجک علاقوں اور موخا کے اطراف دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق تازہ لڑائی شروع ہونے کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ آئی او ایم کی سربراہ ایمی پوپ نے کہا کہ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں لیکن انہیں محفوظ مقام نہیں مل رہا، جبکہ خوراک اور رہائش کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے بدھ کو ریاض کے شمال میں ایک حوثی بیلسٹک میزائل مار گرایا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متعدد ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
حوثی گروپ یمن کے شمالی حصے اور دارالحکومت صنعاء کے بڑے علاقے پر قابض ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد ایران پر حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور مالی مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم حوثی گروپ اور تہران ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
