اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)جیو نیوز کی خبر کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین پر حوثیوں کی جانب سے جارحیت کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سہ فریقی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف جارحیت کو تمام فریقوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں اور اگر سعودی عرب کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہوگا۔
خواجہ آصف کے مطابق یمن سے ہونے والی بلااشتعال جارحیت یا تنازع کے سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں معاہدہ یقینی طور پر فعال ہوگا۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ صورتحال جلد قابو میں آجائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب حوثیوں کے حملوں میں سعودی عرب کے متعدد شہر نشانہ بنے اور منگل کو کم از کم 71 افراد زخمی ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور کہا کہ ایسی کارروائیاں بے گناہ شہریوں کی زندگیوں، علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
خواجہ آصف نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری رہنے کی بھی تصدیق کی۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان براہ راست نہ سہی، بالواسطہ رابطے موجود ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل ایران-امریکا تنازع کو جاری رکھنا چاہے گا، تاہم انہیں امید ہے کہ عالمی دباؤ مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن قائم ہوگا اور اسرائیل کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
