Tensions in the Strait of Hormuz escalate further, two ships set adrift in 24 hours

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ آبنائے ہرمز کے قریب الگ الگ واقعات میں دو تجارتی جہاز ڈوبنے کے بعد اہم بحری گزرگاہ میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ بحری حکام کے مطابق دونوں جہازوں کو پرجیکٹائلز سے نشانہ بنائے جانے کے بعد نقصان پہنچا۔ 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس خطے میں ڈوبنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔

سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ کو منگل کے روز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نقصان پہنچا اور اس میں آگ لگ گئی، جس کے بعد جہاز ڈوب گیا۔ سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز پر سوار تمام 21 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب انٹیگوا اور باربوڈا کے پرچم بردار خشک مال بردار جہاز کیپ ڈاؤ کے ڈوبنے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی بین الاقوامی بحری تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق اس جہاز کو 23 ستمبر کو ایک پرجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ آبنائے ہرمز کے قریب ڈوب گیا۔ واقعے میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہوا، جبکہ باقی افراد کو حملے کے بعد نکال لیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اس آبی گزرگاہ کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے اپنی کارروائیوں میں تیزی کو امریکی بندرگاہی ناکہ بندی اور گزشتہ ماہ عائد کی گئی سخت پابندیوں کے ردعمل سے جوڑا ہے۔

سنگاپور کی میری ٹائم اتھارٹی نے تجارتی جہازوں پر حملوں کو بلاجواز، ناقابل جواز اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے۔