اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ بھارت میں ووٹر لسٹوں پر مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کو منگل کے روز پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مظاہرین نے نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر میں داخل ہونے کے لیے گیٹ اور رکاوٹیں عبور کیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے میں نعرے لگائے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن اور اپوزیشن جماعتوں کے حامی رواں ماہ تقریباً روزانہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تاہم، الیکشن کمیشن نے کسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹروں کے نام غلطی سے فہرستوں سے خارج ہوئے، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔ بی جے پی کا مؤقف ہے کہ مخالف جماعتیں جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق، اس کے رہنما آشوتوش رانکا، سورَو داس اور اجنکیا شندے ان تقریباً 20 رضاکاروں میں شامل تھے جو جنتر منتر میں داخل ہوئے اور بعدازاں گرفتار کر لیے گئے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کو کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
دہلی پولیس نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ جنتر منتر کو اب احتجاج کے لیے باضابطہ مقام نہیں سمجھا جائے گا اور اس مقصد کے لیے تین نئے مقامات مقرر کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد پیر کو اپوزیشن جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں نے مارچ کیا، جبکہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے احتجاج کو روکنے کی کارروائی میں بھی ہزاروں افراد، جن میں سی جے پی کے رہنما شامل تھے، حراست میں لیے گئے۔
تازہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا کہ انتخابی فہرستوں، ووٹر رجسٹریشن اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق نظرثانی کے عمل پر کمشنر کے دو نائبین نے اندرونی سطح پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال شروع ہونے والے اس عمل میں 13 کروڑ سے زائد نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے، جن میں 2 کروڑ 80 لاکھ متوفی افراد، 6 کروڑ 30 لاکھ نقل مکانی کرنے والے اور 3 کروڑ ایسے افراد شامل تھے جن کا سراغ نہیں مل سکا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل سے مسلمان ووٹروں اور دیگر اقلیتوں کو غیر متناسب نقصان پہنچا، تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔
